جولائی 5 کا یوم سیاہ اقتدار کیلئے ایک آمر کے پست ترین اقدام اور اس کی کی مکروع اور ہلاکت خیزسوچ کو صدیوں تک بے نقاب کرتا رہے گا، ، ظہیر ستی

جولائی 5 کا یوم سیاہ اقتدار کیلئے ایک آمر کے پست ترین اقدام اور اس کی کی مکروع اور ہلاکت خیزسوچ کو صدیوں تک بے نقاب کرتا رہے گا، ، ظہیر ستی

Zaheer Satti, Ex, Vise President, PPP, Franceپیرس(یس اردو نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی فرانس کے سینئر راہنما ظہر ستی نے 5 جولائی 1997 کے مارشل لا کے پیچھے چھپی مکروع سوچ اور سازش پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ آج بھی زوال پذیر نظام کسی جنت نظیر یا آئیڈیل حالت میں ڈھل نہیں سکا مگر  مگر اس ہلاکت   آفرینی کا آغاز اس فوجی  شب خون سے ہوا جس کے لئے تیاری 1976ء کے وسط میں مکمل ہوچکی تھی۔ اور ایک مضبوط تر قومی سوچ اور اسلامی نقطہ نگاہ سے بڑی اتحادی طاقت کا سنگ بنیاد رکھنے والی شہید ذوالفقار علی بھٹو کی وژنری قیادت کو ایک بزدل اور گھٹیہ اقتدار کی حوس رکھنے والے آمر کے ذریعے تہہ تیغ کرنے کا ایک بین الاقوامی منصوبہ بنایا جاچکا تھا جس میں صیہونی اور ظاغوتی طاقتوں کی تمام تر سپورٹ شامل تھی۔

مارشل لائ کے تمام حیلے بہانے اور وجوہات پیدا کیے گئے اور ایک طویل عرصہ تک عوامی طاقت کو کچلنے کیلئے منصوبہ بندی کی گئی اس کے بعد  ’’قومی اتحاد‘‘ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مابین مذاکرات کے تمام نقاط پر اتفاق ہوچکا تھا اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کی سحر انگیز قیادت میں حکومت اور اپوزیشن کی مفاہمت تشکیل پاچکی تھی مگر 4 اور5 جولائی کی شب کو غیر ضروری طور پر مارشل لاء لگا دیا گیا ۔ مارشل لاء لگنے سے ایک سال قبل ایک سوچی سمجھی تحریک (جس کو نظام مصطفی کی تحریک کہا گیا) کے شروع کرنے کا عندیہ 1976ء کے وسط میں ہی امریکہ نواز دائیں بازو کے راہنما ائیر مارشل اصغر خان نے ظاہر کردیا تھا۔ انہوں نے تو بھٹو کو کوہالہ کے پل پر لٹکانے کا وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ عام انتخابات کے نتائج اگر انکی مرضی کے خلاف نکلے تو پھر بھٹو حکومت کے خلاف تحریک چلائی جائے گی۔

آج بھی ان مکاریوں اور حیلہ سازیوں کو پاکستان کی پارلیمانی اور عدالتی تاریخ کی بد ترین کہانیاں قرار دیا جاتا ہے  اور پاکستان کے مہذب عوام اس کو ایک سیاہ ترین مکروع کوشش کے طور پر جانتے ہیں