نندی پورکرپشن کیس میں بابراعوان سابق حکومتی وزیرکواین آراو دیکرحکومت نے اپنے ہی گھر سے این آر او کا آغاز کردیا، قاری فاروق احمد فاروقی

 

نندی پورکرپشن کیس میں بابراعوان سابق حکومتی وزیرکواین آراو دیکرحکومت نے اپنے ہی گھر سے این آر او کا آغاز کردیا، قاری فاروق احمد فاروقی

 

پیرس؍اسلام آباد(ایس ایم حسنین) پاکستان پیپلز پارٹی فرانس کے مرکزی راہنما قاری فاروق احمد فاروقی نے نندی پور ریفرنس کیس کے اہم ترین کردار سابق حکومتی وزیر بابراعوان کو بری کرنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت جو بہت عرصے سے واویلا کر رہی تھی کہ اپوزیشن این آراو مانگتی ہے ہم این آر او نہیں دیں گے آخر کار اتنے بڑے نندی پورکرپشن کیس میں بابراعوان سابق حکومتی وزیرکواین آراو دیکرحکومت نے اپنے ہی گھر سے این آر او کا آغاز کردیا،

 

قاری فاروق احمد فاروقی نے مزید کہا کہ ایک کیس میں دومختلف فیصلے حکومتی نمائندے کی بریت جبکہ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی درخواست کو مسترد کرنا اس فیصلے پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ بابر اعوان کو این آر او دیکر ان کی بریت اور راجہ پرویز اشرف کا بدستورٹرائل کا سامنا کریں گے اس فیصلے کیخلاف کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہر خاص وعام خود ہی حکومت اور نیب گٹھ جوڑ سمجھ چکا ہے ۔ اب تو وہ وقت آنا باقی ہے کہ حکومت اعلان کرے کہ جو اس کا لانڈری میں آئے گا وہ صادق وامین جبکہ باقی سب گناہگار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر بابراعوان پاکستان پیپلز پارٹی کا بہت اہم حصہ رہے ہیں اور اب تحریک انصاف میں کرپشن کیس کی وجہ سے متنازعہ ہو چکے ہیں مگر ان کو ڈرائی کلین کیا جارہا ہے ۔

 

نندی پور ریفرنس میں سے عمران خان نے بابر اعوان کو مکھن سے بال کی طرح نکال لیا۔جب تک بابر اعوان پاکستان پیپلز پارٹی میں تھے تب تک ان کا ٹرائل ہوتا رہا۔چئیرمین نیب نے کہا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی کے خلاف کیسز کھلے تو حکومت گر جائے گی۔کیا ویڈیو سیکنڈل لا کر پی ٹی آئی نیب کو بلیک مل کر رہی ہے؟۔کرپشن کیسز میں حکومتی ارکان کو بری جب کہ اپوزیشن ارکان کا ٹرائل کیا جا رہا ہے

 

اگر نندی پور ریفرنس میں کرپشن ہوئی تو صرف بابر اعوان کو بری کیوں کیا؟۔واضح رہے احتساب عدالت نے سابق وزیر قانون اور پاکستان تحریک انصاف کے سینئر نائب صدر ڈاکٹر بابر اعوان کو نندی پور پاور ریفرنس میں بری کردیا ہے۔احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے منگل کو بریت کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ڈاکٹر بابر اعوان اور جسٹس ریٹائرڈ ریاض کیانی کی بریت کی درخواستیں منظور کیں جبکہ باقی تین ملزمان سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، شمائلہ محمود اور ریاض محمود کی بریت کی درخواستیں مسترد کردیں۔

 

ریفرنس میں نامزد 7 ملزمان میں سے پانچ ملزمان نے بریت کی درخواست دائر کی تھیں جب کہ ملزم شاہد رفیع اور مسعود چشتی کی جانب سے بریت کی درخواست دائر نہیں کی گئی تھی۔ عدالت نے چار ملزمان راجہ پرویز اشرف،شمائلہ محمود، ریاض محمود اور جسٹس ریٹائرڈ ریاض کیانی کی درخواستوں پر فیصلہ گزشتہ روز محفوظ کیا تھا جبکہ ڈاکٹر بابر اعوان کی بریت کی درخواست پر فیصلہ 26 اپریل کو محفوظ کیا گیا تھا

 

 

QARI FAROOQ AHMED FAROOQI, SENIOR, LEADER, PPP, FRANCEQARI FAROOQ AHMED FAROOQI, SENIOR, LEADER, PPP, FRANCEQARI FAROOQ AHMED FAROOQI, SENIOR, LEADER, PPP, FRANCE