نگران وزیراعظم کون ہو گا مجھے علم ہے لیکن بتا نہیں سکتا

اسلام آباد  : الیکشن نزدیک آتے ہی نگران وزیر اعظم کی تعیناتی کا معاملہ اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے، I know what the supervisor will be, but can not tellآج وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی سید خورشید شاہ کے مابین چھٹی ملاقات ہوئی لیکن تاحال نگرانوزیراعظم کے لیے کسی ایک نام پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ دوسری جانب نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئیر سیاستدان نبیل گبول نے کہا کہ مجھے پتہ ہے کہ نگران وزیراعظم کون ہوگا لیکن میں بتا نہیں سکتا، میں سمجھتا ہوں کہ جن کا کام ہے ان کو ہی کرنے دینا چاہئیے ۔

ہاں البتہ جو بھی نگران وزیراعظم کے طور پر آنے والے ہیں وہ پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے مشترکہ امیدوار ہیں، ان سب جماعتوں کا ان پر اعتماد بھی ہے، اور وہ اچھے امیدوار ہیں، اُمید ہے کہ وہ ملک میں فیر اینڈ فری الیکشن کروانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے نگران وزیراعظم کے لیے تین نام تجویز کیے تھے۔

مسلم لیگ ن کی جانب سے تجویز کردہ ناموں میں جسٹس ر ناصرالملک ، تصدق جیلانی اور عشرت حسین کے نام شامل ہیں۔ حکومتی جماعتمسلم لیگ ن نے آئندہ نگران سیٹ اپ کے لیے اپنے نام وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو پیش کیے۔ذرائع مسلم لیگ ن نے کہا کہ ہمارے تینوں نام میرٹ پرپورا اترتے ہیں۔ نگران وزیراعظم کے لیے جن ناموں کا انتخاب کیا گیا یہ تینوں شخصیات نیک نامی اور اچھی شہرت کی حامل ہیں۔

ان تمام شخصیات نے اپنے عہدوں پربڑی ایمانداری کے ساتھ فرائض سرانجام دیے ہیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف نے بھی نگران وزیراعظم کیلئے جو نام اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کو پیش کیے ہیں ان ناموں میں تصدق جیلانی اور عشرت حسین کے نام شامل ہیں ۔ اس طرح مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے ناموں میں دو نام تصدق جیلانی اور عشرت حسین ایسے ہیں جن پرمسلم لیگ ن اور پی ٹی آئیمیں اتفاق ممکن ہے۔ اس کے برعکس گذشتہ روز پیپلزپارٹی نے ذکا اشرف اور جلیل عباس جیلانی کو نگران وزیر اعظم کے عہدے کے لیے اُمیدوار نامزد کیا تھا۔