جولائی 5 کا یوم سیاہ پاکستان کی تاریخ کے بد ترین شب خون کی یاد دلاتا ہے جس کے بعد ظلم و بربریت کا ایک دور شروع ہوا جس نے پاکستان جیسے مہذب ملک کو منشیات، اسلحے اور عالمی طاقتوں کی گھٹیہ گریٹ گیم کا گڑھ بنادیا، عبدالستار ملک

جولائی 5 کا یوم سیاہ پاکستان کی تاریخ کے بد ترین شب خون کی یاد دلاتا ہے جس کے بعد ظلم و بربریت کا ایک دور شروع ہوا جس نے پاکستان جیسے مہذب ملک کو منشیات، اسلحے اور عالمی طاقتوں کی گھٹیہ گریٹ گیم کا گڑھ بنادیا، عبدالستار ملک

پیرس(یس اردو نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی فرانس کے سینئر راہنما عبدالستار ملک نے 5 جولائی کے یوم سیاہ کو آمرانہ تاریخ کے بد ترین واقعے کی یاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 5 جولائی 1977 ظلم و بربریت کے ایک دور کا نقطہ آغاز تھا جب عالمی طاقتوں کی گریٹ گیم نے پاکستان کی پر امن فضا کو اپنے ہم وطنوں کیلئے تعفن زدہ بنا دیا اور منشیات اور اسلحے نے ایک پر امن جمہوری معاشرے کو آلودہ کر دیا۔

اس کے ساتھ ساتھ 5 جولائی جمہوری اداروں میں پائی جانے والی ناعاقبت اندیش کالی بھیڑوں  کی سفاکانہ اور بے رحمانہ سازشوں کو بھی بے نقاب کرتی ہے جب قومی اتحاد نام کی اپوزیشن نے حکومت کے خلاف عالمی صیہونی طاقتوں کے بل پر تحریک چلائی جس میں انہوں نے بہت چالاقی اور حیرتناک حد تک سفاکی سے اسلام کا نام استعمال کیا اورتحریک کا نام انہوں نے ’’تحریک نظام مصطفی‘‘ قرار Abdul Sattar Malik, Senior Leader, PPP, Franceدیا۔ اس مبہم نام سے ہی واضح تھا کہ تحریک کا مقصد انتخابی دھاندلی کے خلاف ریلیف لینا نہیں بلکہ تحریک کو لمبا کرتے ہوئے ہر حال میں بھٹو حکومت کا خاتمہ اور رجعتیت کا قیام تھا،

اس تحریک کو دنیا ’’پیٹروڈالر‘‘ تحریک کے نام سے  بھی جانتی ہے کیونکہ اس تحریک کو چلانے کے لئے کروڑوں ڈالر اور کروڑوں ریال امریکہ اور سعودی عرب سے آرہے تھے۔ چنانچہ طے شدہ منصوبے کے تحت امریکی سامراج کی آشیر باد سے پاکستانی فوج نے پاکستان کی پہلی جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا اور بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹوکو ایک قتل کی اعانت کرنے کے الزام میں پھانسی دے کر نظام انصاف اور اسلامی نظام کے گلے پر چھری چلادی۔ اس طرح ایک مشکوک اور غیر منصفانہ عدالتی سماعت کے بعد 4 اپریل1979ء کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا کراصغر خاں جیسے ابن الوقت اور امریکی ایجنٹوں  کی 1976ء میں لگائی جانے والی بڑھک کو عملی جامہ پہنادیا گیا۔