جولائی 5 کا یوم سیاہ آمر کی انتہا پسندانہ سوچکے ساتھ ساتھ جمہوری اداروں میں موجود آمریت کی پیداواروں، اور فوجی اسٹیبلشمنٹ سب کےغیر فطری اتحادوں کیخلاف جمہیوری انتقام کی علامت ہے، سید زاہد عباس

جولائی 5 کا یوم سیاہ آمر کی انتہا پسندانہ سوچکے ساتھ ساتھ جمہوری اداروں میں موجود آمریت کی پیداواروں، اور فوجی اسٹیبلشمنٹ سب کےغیر فطری اتحادوں کیخلاف جمہیوری انتقام کی علامت ہے، سید زاہد عباس

برلن؍اسلام آباد(یس اردو نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے بزرگ راہنما اور پی پی جرمنی کے روح رواں سید زاہد عباس شاہ نے 5 جولائی کے یوم سیاہ کو جمہوریت کے بھیس میں آمریت کے نمائندوں اور آمروں کے ساتھ غیر فطری تعلقات کے حامیوں کے خلاف موثر فورم بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 5 جولائی کے افسوس ناک واقعے کی تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے تو جمہوری اداروں میں چھپی بہت سی کالی بھیڑوں کو بے نقاب کیا جاسکتا ہے اس واقعے کے تناظر میں دیکھیں تو سازش جمہوری ایوانوں میں موجود انہی کالی بھیڑوں نے تیار کی جب  مختلف الخیال اور تضادات سے بھرپور سیاسی و دینی نظریات کی حامل جماعتوں پر مبنی ’’پاکستان Abbas Syed Zahid, Senior Leader, PPP, Germanyقومی اتحاد‘‘ تشکیل دیا گیا۔ اس اتحاد کو اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی کے ساتھ سعودی عرب اور امریکہ جیسی استعماری طاقتوں کی مالی، انتظامی اور بعد ازاں سفارتی حمائت حاصل تھی۔

جمہوری انتخابات کے انعقاد کے اعلان سے ہی شیطانی طاقتیں مجتمع ہونا شروع ہوگئی تھیں۔ کسی طبقاتی سماج میں کوئی بھی الیکشن منصفانہ اور آزادانہ نہیں ہوتا۔ مگر1977ء کے الیکشن میں اگر چند سیٹوں پر دھاندلی نہ بھی کی جاتی تو تب بھی ذوالفقار علی بھٹو کی بھاری اکثریت میں جیت واضح تھی، چونکہ سکرپٹ کے مطابق تحریک چلانے کا جواز حاصل کرنا تھا، اسلئے پاکستانی سیاسی جماعتوں  میں موجود اسٹبلیشمنٹ کے کارندوں، اوردوہرے ایجنٹوں نے سوچی سمجھی نیت کے ساتھ اور عوام کے خلاف اقدامات کرنے والے وڈیروں نے اپنے خوف کے تحت چند سیٹوں پر اس انداز میں من مانی کی کہ دھاندلی، دھاندلی کا شور مچانے کا جواز پیدا ہوگیا۔اور اسکے بعد روح فرسا واقعات کا لامتناعی سلسلہ شروع ہوگیا جس کے اثرات آج تک پاکستان کی عوام بھگت رہے ہیں۔ یہ ظلم کی داستان صدیوں تک دہرائی جاتی رہے گی اور ہماری آنے والی نسلوں کو یہ احساس دلاتی رہے گی کہ ایک مہذب ملک میں کس طرح عدلیہ ، قانون کے محافظ ، فوج اور تمام انتظامی ادارے ملکر صرف ایک جمہور کے نمائندے کونقصان پہنچانے کیلئے کیسے غیر فطری اتحاد تشکیل دیتے ہیں مگر تاریخ میں یہ بات بھی سنہری حروف سے لکھی جائے گی کہ تمام تر ریاستی مشینری بھی ایک فرد اور اس کی جمہوری اور تعمیری سوچ کو شکست نہیں دے سکی ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی تو دے دی گئی مگر اس پھانسی نے شہید کو اس قوم کا محبوب ترین لیڈر بنا دیا جسے شہادت کے بعد بھی نصف صدی کے قریب وہی محبت و پیار حاصل ہے جو اس کی زندگی میں عوام اسے دیتی تھی